پیر , 17 دسمبر 2018

سوہاوہ کے علاقہ پدھری سے 35 لاکھ سال پرانے جانوروں کی باقیات دریافت

سوہاوہ ( احسن وحید) سوہاوہ کے علاقہ پدھری سے 35 لاکھ سال پرانے جانوروں کی باقیات دریافت تفصیلات کے مطابق دریافت میں بارہ سنگھا۔ہرن۔۔شیر مگر مچھ اور مختلف قسم کے جگالی کرنے والے جانوروں کی باقیات شامل ہیں۔۔گزشتہ دس روز سے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے پی ایچ ڈی سکالر شعبہ ذوالوجی عمر دراز اور انکی ٹیم نے پدھری کے جنگلی پہاڑی علاقوں میں انتھک محنت کے بعد کی ہے جس میں۔مقامی فیلڈ گائیڈ بھی شامل تھے اس ریسرچ ٹیم کے سربراہ اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ ذوالوجی ڈاکٹر محمد خضر سمیح اللہ تھے دریافت میں ان جانوروں کے اوپر نیچے کے جبڑے اور دانت۔سینگ اور کھال کے حصے شامل ہیں ریسرچ ٹیم۔کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ان معدوم ہونے والے جانوروں کی باقیات دریافت کر کے وجہ کا پتہ لگایا جا سکے کہ انکی نسلیں کیسے ختم۔ہوئی ہیں تاکہ پاکستان میں موجودہ جانوروں کی نسلوں کو تحقیق کر کے بچایا جا سکے اس علاقہ سے مگرمچھ کی جو باقیات کا دریافت ہوئی ہے وہ بڑے بڑے دریاوں اور جھیلو میں پائی جاتی تھی اب اس علاقہ میں کوئی جھیل۔اور دریاء نہیں پایا جاتا جسکی وجہ سے اب یہ جانور یہاں دکھائی نہیں دیتے جگالی کرنے والے جانوروں کی باقیات کا دریافت ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سوہاوہ شہر لاکھوں سال پہلے وسیع و عریض گھنے جنگلوں پر مشتمل تھا جہاں شیر۔۔ہرن۔ہاتھی۔۔اور دیگر جانوروں کا راج تھا۔۔۔اس سے قبل بھی انہی علاقوں سے ہاتھی اور دیگر جانوروں کی لاکھوں سال پرانی باقیات دریافت ہوچکی ہیں یہاں مختلف یونیورسٹیوں کے سکالرز پہلے بھی آکر ریسرچ کر چکے ہیں جس میں مختلف جانوروں کی باقیات دریافت ہوچکی ہیں ان سکالرز کو جنگلوں پہاڑوں پر۔جانے میں شدید مشکلات کا سامناء کرنا پڑتا ہے اور کوئی پکا راستہ بھی موجود نا ہے جبکہ حکومت کی طرف سے بھی انکی کوئی خاطر خواہ حوصلہ افزائی نہیں کیجاتی اگر حکومتی مدد حاصل ہو تو یہ سکالر ان علاقوں سے مزید دریافت کر کے پاکستان کا نام روشن کرسکتے ہیں۔