جمعرات , 16 اگست 2018

فیصلہ عوام کے ہاتھوں میں ہے…مرزا اعجاز بیگ

انتخابات کسی بھی سطح کے ہوں قومی یا مقامی ،امیدوار کی کامیابی افراد کی کثرت رائے کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی، در حقیقت عوام ہی اپنے ووٹ کی طاقت سے ملکی ترقی اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں ،اگر رائے دہی کا فیصلہ ذاتی شعور پر مبنی ہے تو یقیناانسان رائے دہی سے قبل امیدوار کی تمام سیاسی زندگی کا تجزیہ اور حلقہ کیلئے خدمات کو جانچتے ہوئے اپنا ذہن مطمئن کر لیتا ہے اور اگر یہ فیصلہ کسی برادری یا کسی تیسرے فرد کی رائے کے تحت ہو تو بعدازاں وہ گلہ کرنے کا حق بھی براہ راست محفوظ نہیں رکھ سکتا۔یہاں قابل فکر بات یہ ہے کہ کسی بھی حلقہ میں نمائندگان کے چناؤ میں اس حلقے کے خواص کا انتہائی مضبوط کردار ہوتا ہے کیونکہ علاقہ میں ان کا اثر و رسوخ ہوتا ہے جس کی بنا پر اس مخصوص علاقہ کے عوام کو انتخابی امیدوار سے کوئی غرض نہیں ہوتی وہ محض اپنے علاقہ کے”بڑے”کی بات پر بتائے گئے انتخابی نشان پر مہر ثبت کرتے ہیں اور بعد ازاں اسی مخصوص علاقے کے "بڑے”اپنے ذاتی مفادات ان نمائندگان سے حاصل کرتے ہیں جبکہ عوام کو صرف گلی یا نالی بنوا کر خوش کر دیا جاتا ہے۔گویا عوام کو یہ بات باور کرا دی جاتی ہے کہ آپ کا حق صرف نالی ،گلی یا تھانہ کچہری کی حد تک ہی محدود ہے ،جبکہ صحت ،تعلیم ،بیروزگاری، معاشرتی انصاف اور سیلف رسپیکٹ جیسے بنیادی حقوق کی ذمہ داری عوام کے اپنے سر ہے۔
2018کے انتخابات میں کچھ ہی دن باقی ہیں، ضلع جہلم میں 2 قومی اور 3صوبائی نشستوں پر سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے ، جہلم جو ماضی سے مسلم لیگ ن کا قلعہ کہلاتا چلا آرہا ہے جہاں سے 2013میں منعقدہ انتخابات میں تمام نشستوں پر مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کی تھی اور اس وقت بھی اس جماعت کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں سے ہی اس جماعت کو مقابلے کا سامنا تھا،ملکی سیاسی صورتحال میں تبدیلیوں اور ان دونوں جماعتوں کے سربراہان کی جانب سے نظریاتی کارکنوں کو ٹکٹوں کی ترسیل میں نظر انداز کیے جانے کے بعد25جولائی کو یہ فیصلہ سامنے آجائے گا کہ مسلم لیگ ن ضلع جہلم کو لیگی قلعہ برقرار ر کھ پاتی ہے یا تحریک انصاف اپنے کھلاڑیوں کو ملکی سیاست میں واضح مقام دلانے میں کامیاب ہوتی ہے ۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 66 جہلم 1میں9امیدوار اس نشست کیلئے انتخابی میدان میں ہیں،کل ووٹرز کی تعداد 5لاکھ41ہزاردو سو چھیانوے ہے،یہاں مرد حضرات کے ووٹ 2لاکھ 81ہزارایک سو چھتیس جبکہ خواتین کے ووٹ2لاکھ 60ہزارایک سو ساٹھ ہیں۔کانٹے دار مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے چوہدری فرخ الطاف اور مسلم لیگ ن کے چوہدری ندیم خادم کے مابین متوقع ہے، پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر چوہدری تسنیم ناصر ،ایم ایم اے کے محبوب علی مجاہد ،تحریک لبیک کے خالد تنویر ،برابری پارٹی کے سید علی عباس جبکہ آزاد امیدواروں میں چوہدری محمد ثقلین ،فیصل فرید اور شمیم اختر انتخاب میں حصہ لیں گے۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 67جہلم 2میں آٹھ امیدوار میدان انتخاب میں ہیں، کل ووٹرز کی تعداد4 لاکھ 4ہزار دو سو بارہ ہے، جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 2لاکھ 13ہزار سات سو پینسٹھ اور خواتین ووٹرز کی رجسٹرڈ تعداد1لاکھ 90ہزارچار سو سنتالیس ہے،اس حلقہ میں بھیحقیقی مقابلہ پی ٹی آئی کے چوہدری فواد احمد اور مسلم لیگ ن کے نوابزادہ راجہ مطلوب مہدی کے درمیان ہو گا،پی پی پی کے محمد فیاض اشرف ،ایم ایم اے محمد ضیاء الحق اور تحریک لبیک کے عدیل احمد جبکہ آزاد امیدواروں میں نوابزادہ شمس حیدر ،مشتاق احمد اور فیصل فرید شامل ہیں۔
صوبائی نشست کیلئے حلقہ پی پی 25جہلم 1میں 10امیدوار انتخاب میں حصہ لیں گے ،یہاں سے پاکستان تحریک انصاف کے راجہ یاور کمال اور مسلم لیگ ن کے مہر محمد فیاض کے درمیان سخت مقابلہ کی توقع کی جا رہی ہے اس حلقہ میں کل ووٹروں کی تعداد3لاکھ 26ہزار ہے، مرد ووٹرز1 لاکھ 69ہزار آٹھ سو سولہ اورخواتین ووٹرز1لاکھ 56ہزارایک سو چوراسی ہے، اس حلقہ میںآزاد حیثیت سے راجہ سفیر اکبر،جمشید اشرف، احمد عزیز، محمد عاطف قریشی اور نعمان اشرف جبکہ پیپلز پارٹی کے مرزا عبدالغفار ، تحریک لبیک کے سید میر شاہ بخاری،ایم ایم اے کے قاسم محمود الیکشن میں حصہ لیں گے۔ صوبائی نشست کے حلقہ پی پی 26 جہلم 2سے 15امیدوار انتخابی میدان میں اتریں گے ،اصل مقابلے کی فضا پاکستان تحریک انصاف کے چوہدری ظفر اقبال اور مسلم لیگ ن کے چوہدری لال حسین کے درمیان پائی جا رہی ہے ،یہاں کل ووٹرز کی تعداد3لاکھ 7ہزار آٹھ سو بائیس ہے جس میں مرد ووٹرز1لاکھ 59ہزارچھ سو پینتیس اور خواتین ووٹرز1لاکھ48ہزارایک سو ستاسی ہیں،اس حلقہ میں بطورآزاد میدوارچوہدری سعید اقبال ،راجہ ظفر اقبال،حمزہ نوید، ابرار حسین ،اشفاق احمد ،بلال اظہر کیانی جبکہ پیپلز پارٹی کے چوہدری کاشف اسلام،اے پی ایم ایل کی سعیدہ منہاس،تحریک اللہ اکبر کے سکندر اعظم،پی ایس پی کے گلزار احمد،پی ٹی آئی (گلالئی گروپ) کی خواجہ سرا مجاہدمحمود بابرعرف لبنیٰ لال،پاکستان جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی کے محمد جمیل اور تحریک لبیک کے ملک شوکت حیات اعوان انتخاب میں حصہ لیں گے ۔ حلقہ پی پی 27جہلم 3میں جہاں کل ووٹ3لاکھ 11ہزارچھہ سو چھیاسی ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 65ہزار چار سو پچاس اور خواتین ووٹرز کی تعداد1الاکھ 46ہزاردو سو چھتیس ہے ، اس حلقہ میں انتخابی امیدواروں کی تعداد 14ہے ،پاکستان تحریک انصاف کے چوہدری فواد احمد اور مسلم لیگ ن کے ناصر محمود حقیقی مد مقابل ہیں۔آزاد امیدواروں میں ثاقب حمید،دیوان حشمت،علی الزمان،فیصل فرید ،محمد شعیب رسول کھوکھر،مشتاق احمد اور نوابزادہ سید شمس حیدر شامل ہیں جبکہ نیشنل پارٹی کے جمعہ خان،پیپلز پارٹی پارلیپنٹیرین کے سید آصف حیدر ،ایم ایم اے کے سید سلیم رضا،تحریک لبیک کے محمد فاروق اور فرنٹ نیشنل پاکستان کے نعیم اشرف میدان انتخاب میں مد مقابل ہوں گے۔
سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی،سیاسی فضا بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا، آخری لمحات میں بھی بازی پلٹ جاتی ہے، امیدواروں کی فتح یا شکست کا فیصلہ تو 25جولائی کو منظر عام پر آجائے گا ،لیکن مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے امیدواروں کو پارٹی کے نظر انداز کیے جانے والے نظریاتی کارکنان جنہوں نے اپنے امیدواروں کو آزاد حیثیت سے انتخابی میدان میں اتار دیا ہے،وہ ان دونوں جماعتوں کے ووٹ بنک کو متاثر کر سکتے ہیں اور یہی ووٹ بنک کسی ایک جماعت کی کامیابی کی سیڑھی ثابت ہو گا،شہری حلقوں اور دیہی حلقوں کی سیاست میں قدرے فرق پایا جاتا ہے دیہی علاقوں کی سیاست برادری اور دھڑے بندی پر مبنی ہے ان علاقوں میں صورتحال کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں جبکہ شہری حلقوں میں سائلنٹ ووٹ کو انتہائی اہمیت حاصل ہے جو امیدوار کی شکست اور فتح کا حتمی فیصلہ کرئے گا ، 25 جولائی کو سیاست کے نئے اورپرانے کھلاڑیوں کے مستقبل کاواضح فیصلہ ہوجائے گا کہ آئندہ کون سا کھلاڑی سیاسی ٹیم میں اپنی اہمیت برقرار رکھ سکتا ہے اورکس کو ریٹائرمنٹ لے لینی چاہیے،اس کا فیصلہ عوام کے ہاتھوں میں ہے ۔